تھامس رابرٹ مالتھس کا نظریۂ آبادی ، دنیا اور اعتراضات
تھامس رابرٹ مالتھس ایک انگریز ماہرِ اقتصادیات(Economist) تھا اس نے ایک نظریہ پیش کیا جسے مالتھس کا نظریہ آبادی کہتے ہیں۔ اس نظریے کی رو سے" آبادی 2, 4, 16, 256 کی رفتار سے بڑھتی ہے اور غذائی پیداوار 1, 2 ، 3, 4, کی رفتار سے بڑھتی ہے۔ یعنی پیداوار آبادی کی نسبت بہت کم ہوتی جارہی ہے۔ اور آبادی انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتی ہے۔ یہاں مالتھس کے خیال میں یہ ہے کہ قدرت چونکہ اپنے آپ کو متوازن رکھتا ہے تو اس لئے انسانی آبادی کو کم پیداوار کی وجہ سے آفات کا سامنا کرنا پڑھے گا اور دنیا میں قحط اور دوسرے مسائل پیدا ہوں گے۔ مالتھس نے تجویز دی کہ اگر آبادی کو کنٹرول کیا جائے تو قدرتی آفات کم ہوں گے۔
اب یہ ایک نظریہ تھا لیکن دنیا نے اسے ایک قانون بنایا اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے منصوبے شروع ہوئے۔ برتھ کنٹرول کی ادویات بننا شروع ہو گئیں۔ ان سب کے پیچھے اور حمایت میں یہی مالتھس کا نظریہ پیش کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے کئ ادارے اس پر پیسہ اور وسائل خرچ کر رہے ہیں۔
میرا اعتراض نمبر 1 : اگر قدرت اپنے آپ کو متوازن کرتا ہے تو توازن کے بارے میں مثبت سوچ رکھنی چاہئے ۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھتی ہے تو قدرتی توازن کی رو سے پیداوار کو بھی بڑھنا چاہئے۔
اعتراض نمبر 2: آبادی جتنی کم ہوگی لوگوں میں مسابقہ اور مقابلہ بھی کم ہو گا اسی طرح پیداوار کے لئے تگ ودو بھی سست ہوگی۔ اسی طرح اگر آبادی زیادہ ہو گی تو مقابلے کا رجحان زیادہ ہو گا اسی طرح غذائی ضروریات سے زیادہ پیداوار پیدا ہوگا۔
اعتراض نمبر 3 : شرح اموات اور بیماریوں کی وجہ سے صحت مند افرادی قوت کی کمی پیدا ہوتی ہے اور گر اس میں برتھ کنٹرول بھی شامل کر لیا جائے تو دنیاکی آبادی سکڑ جائے گی اور اس دنیا کو انسانوں کی ضرورت ہے۔
اعتراض نمبر 4: چونکہ بچہ پیدا کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے اس لئے برتھ کنٹرول کی وجہ سے بہت سے لوگ ماں بننے سے کتراتی ہیں اس لئے وہ غیر انسانی رویے اور طریقے اپنائیں گے جیسے سروگیسی اور بچوں کو دوسری ماؤں سے چرانا۔
اعتراض نمبر 5:
اس نظریے کو اسلامی نقطۂ نظر سے بھی بیان کریں گے
ہمار
۔۔۔
۔جاری ہے۔
واللہ اعلم
عبد الستار سیار ۔۔۔۔ بقلم خود
No comments:
Post a Comment