Showing posts with label بری صحبت (الفسانہ). Show all posts
Showing posts with label بری صحبت (الفسانہ). Show all posts

Friday, September 22, 2023

بری صحبت

 بری صحبت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (الفسانہ)


اس کو تیس مار خان بننے کا بہت شوق تھاِ ۔ بعض کاموں میں واقعی وہ تیس مارخان تھا جیسے غلیل سے پرندوں کا شکار کرنا۔ بنسیوں کے ذریعے دریا میں سارا سارا دن مچھلیاں پکڑنا، درختوں پہ چڑھنا۔ ابھی لڑکپن تھا اس نے آٹھویں کلاس میں سکول میں داخلہ لیا تھا۔  عصر کو میں اس کے ساتھ گھر کے قریب کھیتوں کو جانے والے راستے میں بیٹھا تھا ۔ اور لڑکے بھی تھے۔ جو سب کے سب چرسیے تھے ۔ یہ سب چرس پینے کے پکے عادی تھے ان کی عمریں بارہ سے سترہ سالوں کے درمیان تھی۔ان میں سے صرف میں ہی تھا جسے نشے سے سخت نفرت تھی اگرچہ نسوار کو ممنوع نہیں سمجھتا تھا۔ انہوں نے آج باقاعدہ پلان بنایا تھا۔ کہ اس کو مکمل ماموں بنایا جائے۔ 

اس نے بھی سینہ تھان رکھا تھا اور اپنی برتری ثابت کرنے کو تیار بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے سیگریٹ کا ڈبیہ نکالا اور ساتھ ہی چرس کا ایک ٹکڑا بھی۔ اور سیگریٹ پہ سیگریٹ سلگانے لگے۔ ان لڑکوں نے جن کے چہرے نام سب میری یادداشت سے خذف ہو چکے ہیں نے پہلے سے کچھ سیگریٹ  چرس سے بھرے تھے وہ خود تو آہستہ آہستہ سے اور صرف ایکٹنگ کر رہے تھے لیکن میرے ساتھی کو پورا سیگریٹ تھما رہے تھے اور وہ بھی اسے مالِ مفت سمجھ کر نوش فرما رہا تھا۔ میرے بار بار سمجھانے سے وہ اور بھی ڈھیٹ بن گیا اور ساتھیوں سے شرط لگا بیٹھا کہ میں یہ سارے چرس اکیلے ہی پی سکتا ہوں۔ اس کے مکار ساتھیوں نے اسے آج بالکل ناکارہ کرنے کی ٹھان لی تھی اور اس کو مردہ حال بنانے پہ تلے ہوئے تھے ۔ اس کے گھر میں کئی عورتیں تھیں لیکن ایک بھائی تھا جو کہ نوکری کے سلسلے میں ایک دوسرے شہر دور رہتا تھا۔ اس لئے گھر کا سارا بوجھ اور دارومدار اسی پر تھا ۔ وہ میرا قریبی رشتہ دار تھا اس کے علاؤہ وہ بہت ہی مخلص تھا اس لئے مجھے اس کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی تھی۔ اس کا گھرانہ انتہائی مذہبی تھا۔ بالآخر جب اس نے تین چرس کے بھرے سیگریٹ نوش کئے تو وہ کچھ لڑکھڑایا لیکن دوبارہ سنبھل گیا اور اس نے ایک اور سیگریٹ مانگی۔ مجھے یہ لگا کہ وہ خودکشی کرنے جارہا ہے اس لئے میں نے اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ڈھٹا رہا میں نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو بہت سمجھایا لیکن وہ حرامی اس بے سہارا کو کمزور کرنے اور گرانے کے مزے لے رہے تھے۔ اب رات ہو چکی تھی اگست کے مہینے کے مہیب سائے جبکہ خیبر پختونخوا میں مکئی اور گنے کے فصل کے کھیتوں کی وجہ سے ہر طرف رات کی سیاہی اور ہیبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ رات کے دس بجے کچھ زیادہ ہی بھیانک اندھیرے کی خبر دے رہے تھے۔ بحرِ حال اس کے ساتھیوں نے چوتھی سیگریٹ اس نادان کی طرف بڑھائی۔ اس نے ہڑبڑاتے ہوئے کش لی اور کہا کہ ایک اور بھی پیوں گا۔ اب اسے کچھ زیادہ محسوس ہوا کہ اس کے ساتھی اسے مارنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ لیکن اسے مجھ پر پورا بھروسہ تھا کہ یہ سنبھال لے گا اور میں ڈر اور دکھ کی وجہ سے بے حال ہو رہا تھا ۔ اس کے ساتھیوں نے اسے پانچویں سیگریٹ بھی تھما دی اور اسے کہا بس اسے پی لے اور نہیں اب اس کی حالت غیر ہونے والی تھی لیکن کمینوں کے اصرار پر وہ اسے بھی پی گیا میں نے ایک دفعہ پھر کوشش کی کہ اسے گھر لے جاؤ لیکن وہ برہم ہوا ابھی اس میں کچھ دم باقی تھا کیونکہ جوانی کی طاقت تھی۔اس کے ساتھی اب صرف اسے پلانے لگے تھے خود صرف تماشہ اور اداکاری کر رہے تھے۔ جب چٹھی سیگریٹ اس نے لے لیا تو تقریباّّ لیٹے لیٹے اس نے کش لگائے اور کھانسنے لگا جب وہ بے حال ہونے لگا تو میں نے سب کو خبردار کیا اب میں نے اسے زبردستی اٹھایا اور تقریباّّ گھسیٹتے گھسیٹتے اسے گھر لے گیا اب اس میں دم خم باقی نہیں تھا اس لئے اب وہ مجھے منع نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے ساتھیوں کا مقصد بھی پورا ہو چکا تھا اس لئے انہوں نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی۔  گھر پہنچ کر جب دروازے سے داخل ہوئے تو سب سو چکے تھے ۔ بجلی چلی گئی تھی اور ہم صحن میں پہلے سے بچھے چارپائیوں پر لیٹ گئے ۔ اسے جب میں نے چارپائی پر لٹایا تو وہ بالکل بے 

سدھ اور نشے نے اسے پیلا زرد کیا ہوا تھا۔ میں بھی اس وقت بارہ تیرہ سال کا لڑکا تھا اور اتنی سمجھ نہ تھی کہ کسی ڈاکٹر کو بلا لیتے اس وقت ہم ہی بڑے تھے کیونکہ باقی سب عورتیں اور بچیاں تھیں۔ 


وہ رات میں نے جاگ کر گزاری کچھ احساسِ ذمہ داری اور زیادہ ڈر اور خوف کی وجہ سے ۔رات بہت لمبی ہو گئی اور میں آیت الکرسی کا ورد کرتا رہا اور کبھی معوذتین پڑھتا۔ جب صبح کی اذان ہوئی تو میرے کانوں کو ایسے لگا جیسے کوئی مجھے نئی زندگی اور امید بخش رہا ہو۔ صبح وہ اٹھنے کے قابل نہیں تھا اور کچھ الٹیاں بھی کر گیا تھا ۔ اگلے دو دن تک وہ بحال ہو گیا کیونکہ ابھی اس کے قسمت میں بہت سی الجھنیں اور مشکلات باقی تھیں۔ اس دھویں نے نجانے کتنوں کی جانیں لی ہیں کتنوں کی عزتیں تار تار کیں ہیں اس لئے اس زہریلے دھویں سے مجھے بہت نفرت ہے۔ خدا ہماری نسلیں سلامت رکھے۔ 


والسلام


خیر اندیش :


عبد الستار سیار ۔۔۔۔ بقلم خود

شام 8 بچ کر 40 منٹ پاکستان

20 ستمبر 2023

صوابی، خیبر پختونخوا 


پښتانۀ اؤ مغلوالي، د مغلو د تاریخ تاریک اړخ

  پښتانۀ اؤ مغلوالي، د مغلو د تاریخ تاریک اړخ لیک اؤ زیار: عبدالستار سیار مغل د بابر باچا نه مخکښی ترک وۀ يعنې ترکي ژبه یې وئېله د دوئی نیکۀ...