Showing posts with label عدم برداشت اور انسانی رویے. Show all posts
Showing posts with label عدم برداشت اور انسانی رویے. Show all posts

Friday, September 22, 2023

عدم برداشت اور انسانی رویے

 عدم برداشت، سیاست اور انسانی رویے

تحریر و تحقیق : عبد الستار سیار


عدم برداشت ایک کمزور طبقے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جب کوئی میدانِ جنگ میں نشیب پر ہو تو اسے اپنی بچاؤ کے لئے ہر دفعہ سوچنا پڑتا ہے ۔ جلد بازی اور عدم برداشت سے آپ صحیح سمت میں سوچ نہیں سکتے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں پہلے سے عدم برداشت ہو تو وہاں کے لیڈروں کے لئے اپنے عوام کو تربیت دینی چاہئے کہ کیسے برداشت اور بردباری سے کام لینا ہے۔ رہنمائی کے اصول بتانے پڑیں گے۔ توڑ پھوڑ سے ہمیشہ محروم طبقہ متاثر ہوتا ہے کیونکہ بڑے لوگ اپنے نقصان کے ازالے کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ایسے لیڈر کسی کام کے نہیں جو اپنے لوگوں اور عوام کو اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی تربیت مہیا نہ کریں۔ بے لگام معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ مجرم پیدا کر سکتا ہے۔ انقلاب اگر کسی کے خون سے جنم لے تو یہ بدترین انتقام ہوتا ہے انقلاب نہیں۔ ویسے بھی انقلاب ایک مغربی سوچ ہے مشرقی سوچ بغاوت ہے جو کہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس میں دھڑن تختہ ہوتا ہے۔ خون کی ندیاں بہنے کا خدشہ ہوتا ہے جو ایک غیر انسانی فعل ہے۔ بغاوت تب ہی ہوتا ہے جب کسی کی سانس بھی روک لی جائے اسلام میں تشدد نہیں اس لئے اسلام میں صرف مجرم کو تعزیر کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسلام کسی مجرم پر بھی جبر کا متحمل نہیں۔ امن۔اسلام اور عدمِ تشدد ایک ہی چیز ہے اور اس کا مقصد بھی ایک ہے  وہ ہے انسانی بقا اور  سلامتی۔


عدمِ تشدد کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ سب کچھ ہی برداشت کریں یہ پھر بزدلی ہوتی ہے۔ عدمِ تشدد کا مطلب ہے کہ آپ کے ہاتھ سے دوسروں پر ظلم نہ ہو۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ بلکہ اس کے ظلم سے دوسرے مخلوقات  محفوظ ہوں۔ اب اگر اپنے حقوق کے لئے آپ دوسروں کے حقوق غصب کریں تو یہ تو بد دیانتی ہوئی۔ آپ کو کچھ اصول وضع کرنے ہوں گے انصاف پر مبنی اصول۔ انسان کو قوانینِ قدرت کا احترام کرنے والا ہونا چاہئے۔


والسلام

خیر اندیش

عبد الستار  سیار ۔۔۔۔ بقلمِ خود

پښتانۀ اؤ مغلوالي، د مغلو د تاریخ تاریک اړخ

  پښتانۀ اؤ مغلوالي، د مغلو د تاریخ تاریک اړخ لیک اؤ زیار: عبدالستار سیار مغل د بابر باچا نه مخکښی ترک وۀ يعنې ترکي ژبه یې وئېله د دوئی نیکۀ...