پاکستان ، ڈیم اور واپڈا کالونیاں
ایس نے کہا کہ پاکستان میں جب ڈیم بنتے ہیں تو پہلے رہائشی کالونیاں بنتی ہیں اس کیلئے زرعی زمینوں کو پہلے ہی سے بنجر کیا جاتا ہے۔ یوں زراعت کا بیڑا غرق کیا جاتا ہے۔ عموماً ڈیم دس سے پندرہ سال لے لیتے ہیں۔اس دوران زمین کا کوئی فائیدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ جب تک کالونیاں بنتی ہیں تب تک ڈیم کا فنڈ ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر جن لوگوں کو ان منصوبوں پہ اختیار دیا جاتا ہے ان کو متعلقہ علاقے سے کوئی تعلق یا دلی لگاؤ نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تاک میں ہوتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ فنڈ کا حصہ غائب کیا جائے۔ پھر جب بھرتیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو جس کے ہاتھ میں اختیار ہوتا ہے وہ میرٹ ، علاقائی رجحانات اور حقوق کو غصب کرکے ایک بہت ہی دور دراز علاقوں سے نا وارد مخلوق کو ان کالونیوں میں بساتے ہیں۔ مقامی علاقے سے اپارتھیڈ (Aparthied) جیسا سلوک کرتے ہیں۔ ان کالونیوں کو ارد گرد سے محفوظ بنانے کے لئے قلعہ نما دیواریں کھڑی کر کے نو گو ایریا بنایا جاتا ہے۔ یوں مقامی لوگوں سے سیرو تفریح اور مچھلی شکار بھی چھینا جاتا ہے۔ یہ کالون (کالونی والا) مخلوق خاص قسم کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں۔ ان کے نفسیات الگ طرح کے ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں سے ان کو عناد ہوتا ہے اور یہ لوگ اپنے ہی دیواروں میں محصور ہوتے ہیں۔ نہ مقامی لوگوں سے گھل ملتے ہیں اور نہ اپنے آبائی لوگوں سے صحیح طرح سے جڑتے ہیں ایک قسم کا کالون معاشرہ بن جاتا ہے۔ مجھے " A Passage
to India
ناول یاد آ گیا جس میں انگریز سرکار کے لوگ خاص قسم کے ماحول میں بستے ہیں اور جن پر وہ حکومت کرتے ہیں ان کو بالکل ایک الگ طرح غلام مخلوق سمجھتے ہیں۔ اگر پاکستان میں اس طرح کے ڈیم بننے ہیں تو ان کا نہ ہونا بہتر ہے۔ پہلے سے ہی طبقاتی جنگ شروع ہے۔ بحریہ ٹاؤن اور کینٹ جیسے علاقے پہلے سے وی آئی پی سوسائٹیوں اور ایلیٹ کلاس کے محور ہیں۔ تربیلا ڈیم کی مثال لے لیجئے یہاں جن لوگوں کو زمینوں اور علاقے سے بے دخل کیا گیا ان کو تو زمینوں وغیرہ کا معاوضہ دیا گیا لیکن ان کو ڈیم میں کوئی مستقل روزگار نہیں دیا گیا تاکہ ان کا ڈیم سے اور آبائی علاقے سے تعلق باقی رہ سکے۔ تربیلا کی تعمیر میں تو ضلع صوابی اور ضلع ہری پور کے مزدوروں نے بہت سا کام کیا لیکن ان دو ضلعوں سے ملازمین نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر پورے پاکستان کی سطح پر میرٹ کی بنیاد پر اس قومی اور وفاقی ادارے میں بھرتیاں ہوتیں تو پھر تو ٹھیک تھا اس میں سندھ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے بھی لوگ بھرتی کئے جاتے۔ قبائلی علاقوں کو اس ضمن میں بلکہ کسی ادارے میں جگہ ہی نہیں ملی۔ مریم گیلانی صاحبہ نے ایک دفعہ ریلوے میں بھرتی پر کالم لکھ کر بے قاعدگی کا نوٹس حکومت کو دلایا تھا لیکن ستر سالوں سے ان اداروں میں جو بے قاعدگی سے بھرتیاں ہوتی ہیں ان کے بارے میں انوسٹی گیٹو ریسرچ کونسا صحافی کرے گا ہمیں انتظار رہے گا۔ خدا کرے کہ باضمیر لوگ معاشرے کے ذمہ دار بن جائیں ورنہ پاکستانی معاشرہ کیپیٹلزم اور اپارتھیڈ کی بدترین مثال بن جائے گا۔ واللہ اعلم
والسلام
خیر اندیش۔۔۔۔ عبد الستار سیار
No comments:
Post a Comment