سیلابی پانی کے ضیاع کو کیونکر روکا جائے
ایس نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال سیلاب آتے ہیں اور پنجاب میں بہت سارا نقصان کرتے ہیں۔ جبکہ انہی دنوں تھر کے لوگ پانی کو ترستے ہیں۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ پنجاب سے ایک نہر تھر نہرِ سوئیز کی طرز پر کھودی جائے اور اس نقصان پھیلانے والے پانی کو تھر اور بلوچستان کو دیا جائے۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ اس کے لئے فنڈ نہیں تو بھائی ابتدا میں چھوٹی سی نہر بھی غنیمت ہے بعد میں وقت بہ وقت اس میں توسیع ہونی چاہئے۔ اس نہر سے کالاباغ ڈیم سے زیادہ آمدن ہو گی اور اخراجات بھی تھوڑے سے آئینگے۔جگہ جگہ پانی ذخیرہ کرنے کے چھوٹے چھوٹے بیراج بن سکتے ہیں۔ پنجاب، بلوچستان اور سندھ کا بہت سارا بنجر زمین زیرِ کاشت بنایا جاسکتا ہے۔ ابتدا پروٹوٹائپ سے یعنی چھوٹی سطح پر کرنی چاہئے۔ بعد میں اگر حکومتیں اس میں توسیع کریں تو کشتی رانی اور آمدورفت ، فشریز کے لئے بھی یہ نہر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ موٹرویز اور ہائی ویز سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کی زرعی مقاصد کے لئے جون جولائی میں جو وافر پانی پاکستان سمندر میں پھینک رہا ہوتا ہے وہ بھی اسی نہر سے ذخیرہ یا استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا اور پاکستان میں غذائی بحران کا سامنا ہے اس لئے نئی راہیں کھولنی چاہئے ۔
خواب کبھی کبھی حقیقت بنتے ہیں۔
واللہ اعلم
اللہ بہتر جانتا ہے۔
خیر اندیش
عبد الستار سیار بقلمِ خود
No comments:
Post a Comment