ایک روپے کا بزنس/ کھیل کیا ہے؟
آپ نے ایزی پیسہ ایپ میں اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک روپے میں آپ کو ایک موبائل فون کی لاٹری لگا دیتا ہے۔ آخر یہ ایک روپے کا کھیل کیا ہے؟ جس طرح بچے دس روپے میں کھلونوں کی لاٹریاں خریدتے ہیں اسی طرح موبائل کمپنیاں آپ کو پانچ روپے روزانہ میں صحت کی سہولت فراہم کرتیں ہیں۔ مگر کیا کمپنی خسارے میں جاتی ہے۔ نہیں بلکہ بہت سا کماتی ہے۔ کیسے؟ آپ اور ہمارے طرح کروڑوں لوگ موبائل فون کے لالچ میں اپنا ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ اب اگر کسی موبائل کمپنی کے دس کروڑ صارفین میں سے تین کروڑ صارفین اپنا ایک روپیہ خرچ کرتے ہیں تو کل تین کروڑ روپے کمپنی کما لیتی ہے۔ اب اگر اس رقم میں سے موبائل کی قیمت دو لاکھ روپیہ کاٹ لئے جائیں تو دو کروڑ اٹھانوے لاکھ روپے رہ جاتے ہیں اور اگر باقی رقم میں سے پانچ لاکھ ٹیکس کے بھی کاٹ لئے جائیں تو کمپنی کو پھر بھی دو کروڑ ترانوے لاکھ روپے صافی رقم کا فایدہ ہوا بغیر کسی جنجھٹ کے۔
اب یہ علماء کا کام ہے کہ وضاحت کریں کہ اس طرح کی سرمایہ کاری جائز ہے؟ یا نہیں۔ کیونکہ ایک روپے کے خسارے کا خدشہ ہے۔ اب اگر میرا دو لاکھ کے فون کی لاٹری نکل آئی تو میں اس کا کیا کروں؟ شریعت کی رو سے بحیثیتِ مسلمان مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اور اگر میرا پڑوسی غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہو تو اس کے لئے کیا کرنا ہو گا؟
واللہ اعلم
والسلام
عبد الستار سیار۔۔۔۔ بقلمِ خود
No comments:
Post a Comment